A Survivor & A Warrior
A true story of an anxiety warrior by Syed Ahmed Mujtaba. He has written his own story not just to inspire you people but to raise awareness about anxiety.There are so many people out there who are going through anxiety disorder but are neglected due lack of awareness and eventually they quit living. But here is a warrior who is surviving, serving , facing and living.Thumbs up for Syed Ahmed Mujtaba, we proud of you.
میرے تجربات اور احساسات : 2015 سے ایک عجیب کشمکش کا شکار ہوں۔ مارچ 2015 میں میٹرک کے امتحان دے کر فارغ ہوا۔ ابھی امتحان دیے ہوئے 3 دن ہی گزرے تھے کہ 17 مارچ 2015 بروز ہفتہ کی رات 9:30 بجے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میرا سانس رک رہا ہے اور محسوس ہونے لگا جیسا کہ یہ میرا اس دنیا میں آخری دن ہے۔ مجھے فوری طور پر DHQ ایمرجنسی لے جایا گیا جب میں ایمرجنسی پہنچا۔ تو میں بہت زیادہ خوفزدہ تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میرا دل سینے کے باہر ہی پڑا دھڑک رہا ہو۔ اور دھڑکن کانوں تک سنائی دی رہی تھی۔ اور ایسا گھٹن کا احساس ہوتا تھا کہ میں بار بار بیڈ سے اٹھ جاتا اور ڈاکٹر کو بلانے کا کہتا اور پہلے سے زیادہ خوفزدہ ہو جاتا اور آخر کار ڈاکٹر نے سکون کے انجیکشن لگائے۔ اور کہا کہ اسے اور کوئی مسلہ نہیں صرف انیگزائٹی (Anxiety) ہے۔ اور گھر بھیج دیا۔ اور یقین دلایا سو کر اٹھے گا تو ٹھیک ہو جائے گا۔ جب میں گھر آیا تو میرا سونا مشکل ہو گیا تھا۔ پورا جسم بے چینی کے عالم میں تھا۔ کہ آخرکار نیند آ ہی گئی۔ اگلی صبح آٹھا تو محسوس کرتا تھا میری زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں وہ کھیل جسے میں ایک دن پہلے تک انجوائے کر رہا تھا اب ان میں بلکل ہی دل نہیں لگ رہا تھا۔ گھر والے مجھے باتوں میں اور کھیل میں لگانے کی کوشش کرتے لیکن مجھے کسی چیز میں دلچسپی نہ پیدا ہوتی میں خود بھی پریشان تھا کہ آخر مجھے ہو کیا رہا ہے دن گزرتے گئے اور میری طبیعت اسی طرح خراب ہوتی رہتی میں باہر نہ نکلتا تھا اور گھر میں لیٹا رہتا تھا۔ بے مقصد دن گزرتے جا رہے تھے میں کالج میں آ چکا تھا اور جب لیکچر تھیٹر میں جب بیٹھا ہوتا تو محسوس کرتا کہ سانس پوری نہیں ہو رہی اور ایسا احساس کہ میں اب قید ہو چکا ہوں۔ اب گھر والوں کے اسرار پر روحانیت کی طرف آنے کا وقت تھا میں بے نمازی بندہ جس کی عمر آبھی 17 سال تھی نماز اور قرآن پڑھنے لگا اور جو کچھ روزانہ مشکل پیش آتی اسے اللہ کی رضا جان کر رفع دفعہ کر دیتا شام کو اکیڈمی جاتا ایک روز اکیڈمی سے کھر واپس آیا میری طبیعت میرا ساتھ نہیں دے رہی تھی لیکن مغرب کا وقت تھا اور با جماعت نماز پڑھنے کے لیے مسجد کی طرف نکل پڑا ابھی نیت باندھ کر کھڑا ہوا تو مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ گھبراہٹ کی وجہ سے میری جان نکلی جا رہی تھی اور ایسا لگتا تھا جیسے میرا دل ابھی پھٹ جائے گا یا اسے دورہ پڑ جائے گا اب بس یہ راستہ رہ گیا تھا کہ نماز کو توڑ کر بھاگا جائے۔ لیکن یہ گورار میں اور اذیت کے ساتھ نماز ادا کر کے گھر کی طرف بھاگ پڑا پھر ایمرجنسی لے جایا گیا اور کچھ ظاہراً نظر نہ آیا حالانکہ مجھے امید تھی کہ دل میں واقعی کوئی مسلہ ہو گا۔ شروع کے 3-4 مہینے تو گھر والے بھی مختلف ڈاکٹروں کے پاس لے جاتے ریے۔ معدے کے ڈاکٹر کے پاس جاتا تو وہ معدے کی دوائی دیتا۔دل کے ڈاکٹر کے پاس جاتا تو وہ دل کی دھڑکن کو قابو کرنے کی دوائی دے دیتا۔ اور ان سے صرف 19-20 کا فرق پڑتا۔ اور پھر سے پرانی کنڈیشن میں آ جاتا۔ اذیت کے ساتھ ایک ناکارہ انسان دن گزارتا۔تو والد نے بھی میری طبیعت کا نوٹس لینا چھوڑ دیا تھا۔ اور ڈاکٹروں کے پھیرے بھی ختم ہو گئے تھے۔میری اذیت سے بے خبر گھر والے تو صرف پڑھائی کی ڈیمانڈ کرتے تھے۔ غلطی ان کی بھی نہیں تھی ۔ غلطی تو یہ تھی کہ آگاہی نہ تھی کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ اگر گھر والے میرے مسئلے کو سمجھ لیتے تو وہ ادھر ادھر ڈاکٹروں کے پاس نہ جاتے۔ اور مجھے میرے مسلے ماہر ڈاکٹر یعنی سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جاتے۔ ان بے شعور لوگوں میں، میں بھی شامل تھا۔ ایک دن کسی دوست کے ساتھ ایک ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک سائکائٹرسٹ کا بورڈ لگا ہوا تھا اور علامات درج تھی کہ ان میں سے کوئی بھئ علامت ہو تو سائکاٹرسٹ سے رجوع کریں اور ان میں اکثر علامات مجھ میں پائی جاتی تھیں۔
گھر جا کر اس ڈاکٹر کے بارے میں بتایا اور ساتھ ہی کہ دیا کہ مجھے بس ایک دفعہ اس ڈاکٹر کو چیک کروا دیں ایک بھائی اور امی رضامند ہو گئے۔ اور میں ان کے ساتھ ڈاکٹر کے پاد چلا گیا وہ ڈاکٹر میری کنڈیشن کو سمجھ رہا تھا۔مجھے کچھ بیماریاں ڈائیگنوذ کر کے اس نے میڈیسن لکھ دی اور کہا کہ یہ آخر میں ایک گولی بچے گی جو آپ کو تا حیات لینی پڑے گی۔میں رضامند ہو گیا اور میڈیسن لینا شروع کردی۔
میری طبیعت بہتر ہوتی جا رہی تھی آخر 2015 ختم ہوا اور 2016 شروع ہوا۔ طبیعت تو ٹھیک ہو رہی تھی لیکن اس کے سائڈ افیکٹ بھی آنے لگے تھے ہاتھ میں چمچ یا چائے کی پیالی پکڑتا تو ہاتھ کانپنے لگ جاتا جیسے رعشہ کا مریض ہو اور جسم اس طرح کمزور جیسے کہ بخار ہو۔ آخر گھر میں ایک ایمرجنسی آن پڑی اور مجھے دوسرے شہر جانا پڑا۔ جلدی جلدی میں اپنی دوا اور ڈاکٹر کی پرچی لے جانا بھول گیا جو میں 4 5 ماہ سے استعمال کر رہا تھا۔ وہاں میڈیکل سٹور سے دوائی لینے جاتا تو پرچی کے بغیر دوائی دینے سے انکار کر دیتے اور دوا نہ ملنے پر میری طبیعت غیر ہوتی جارہی تھی۔اور میرا جسم جو ان ادویات کا عادی ہو چکا تھا دوا نہ ملنے پر بلڈپریشر کا شکار ہو گیا اور میں بےہوش ہو کر گر پڑا۔
جب ایک مہینے بعد گھر پہنچا تو میری طبیعت ویسی ہی ہوتی جا رہی تھی جیسی پہلے تھی۔ وہی ہر وقت مجھ پر پریشانی طاری رہتی۔ اب ایک موڑ اور آیا میں ایک دن دوبارہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر میرے والد مجھے ایک دماغی سرجن کے پاس لے گئے۔ اس سے میں 6 ماہ علاج کراتا رہا اور آہستہ آہستہ کچھ بہتری آ رہی تھی سوشل سرکل وسیع ہوتا جا رہا تھا۔
وہ لڑکا جسے گھر والے اعلی تعلیم دینا چاہتے تھے وہ بس بے بسی کی ایک تصویر تھا۔ وہ لڑکا جو میٹرک میں 86 فیصد نمبر لے کر آیا تھا اب فرسٹ ایئر کے ایک مضمون میں فیل ہو گیا تھا۔ اب سیکنڈ ائیر کے امتحانات کا وقت آیا وہ اپنی جدوجہد سے اچھے نمبر حاصل کر گیا۔
اردگرد کے لوگوں نے اس ناکامی کا سبب لڑکے کی بے جا دوستی اور نہ پڑھنا قرار دخا جو کہ اندرونی کہانی سے لاعلم ہیں۔
اب 2018 آچکا ہے اور لڑکا امپروومنٹ کا داخلہ بھیج چکا ہے لیکن گھر والے ابھی بھی اس بات پر با ضد ہیں کہ وہ پڑھتا نہیں ہے۔
سید احمد مجتبی

زبردست بہت خوب لکھا ہے آپ نے جناب
ReplyDelete